ابنا:یوں تو جب سے سرزمین فلسطین پر غاصب صہیونی ریاست وجود میں آئی ہے پورا فلسطین، ملت فلسطین کے لئے ایک جیل بنا ہوا ہے۔ جہاں یہ صورتحال ہو وہاں جیل کتنے خوفناک اور بھیانک ہونگے اس کا تصور شائد کسی ایسے شخص کے لئے ممکن نہ ہو جس نے اس کا تجربہ نہ کیا ہو۔ قدس کی غاصب صہیونی حکومت کے جیل اس وقت فلسطینی قیدیوں سے بھرے پڑے ہیں کہ جن میں چھوٹی عمر کے بچوں کے علاوہ خواتین بھی شامل ہیں۔ فلسطینیوں کی استقامت کے نتیجے میں کچھ عرصہ قبل صہیونی ریاست نے تقریبا 1000 قیدیوں کو جیلوں سے رہا کیا تھا۔ صہیونی ریاست کے ان جیلوں کی ابتر صورتحال اور ایذارسانیوں کے خلاف کافی عرصے سے فلسطینی قیدیوں نے بھوک ہڑتال کررکھی ہے جن میں سے متعد قیدیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ صورتحال سنگینی اندازہ اس لگا یا جاسکتا کہ عالمی ریڈکراس کمیٹی بھی اس سلسلے آواز اٹھانے پر مجبور ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق عالمی ریڈ کراس نے صہیونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حالت بہت افسوس ناک قرار دیا ہے۔عالمی ریڈکراس کمیٹی کے وفد کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائيل کی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کی حالت افسوس ناک ہے اور چھ قیدیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ صہیونی جیلوں میں تقریبا ایک ہزار فلسطینی قیدیوں نے نہایت غیر انسانی حالات پر احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ ادھر فلسطین کی عوامی حکومت کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے تاکید کی ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کو متحد ہوکر صہیونی ریاست کے مقابلے میں ڈٹے رہنا چا ہیے۔ فلسطینی قیدیوں کی تنظیم حسام کےسربراہ موفق حمید نےکہاکہ غاصب اسرائیلی حکومت غزہ پٹی کےشہریوں اورفلسطینی قیدیوں کےخلاف اپنےجرائم کاسلسلہ جاری رکھےہوئے ہے۔ ایک موثق اطلاع کے مطابق صہیونی جیلوں میں ایسے قیدی بھی موجود ہیں جنہیں گذشتہ پانچ برسوں سے ان کے گھر والوں سےملاقات کی اجازت نہیں دی گئی میں۔ان حالات میں فلسطینی قیدیوں کی مدد اور ان کی رہائی کی کوشش کرنا ایک قومی اورمذہبی فریضہ ہے اور سبھی کوبیت المقدس کی آزادی کی کوشش کرنےوالےان قیدیوں کو رہا کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ البتہ فلسطین کی قانونی حکومت اپنے طور پر قیدیوں کی رہائی اور ان کی مشکلات کو کم کرنے میں کوشا رہی ہے اور اس کے خاطر خواہاں نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں تاہم چونکہ علاقے کے بااثر عرب اور اسلامی ممالک اپنی امریکہ نوازی کی بناپر فلسطین کے تعلق سے کسی قسم کا کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے جس سے صہیونی ریاست کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، لہذا فلسطین کے مظلوم مسلمان بدستور عرب ملکوں کی بے حسی اور لاتعلقی کا شکا رہیں گے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ فلسطین کی قانونی حکومت میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرۃ نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے لوگ دواؤں میں کمی کے بحران کا شکار ہیں۔اطلاعات کے مطابق اشرف القدرۃ نے کہا کہ غزہ میں ان دنوں دواؤں کے ساتھ ساتھ طبی آلات بھی ختم ہوچکے ہیں۔القدرہ نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ غزہ میں انسانی المیے کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کریں۔ چنانچہ تازہ ترین اطلاعات غزہ کے عوام کےلئے یورپی عوام کا امدادی کاروان شام پہنچ چکا ہے۔ چودہ بسوں پر مشتمل اس کاروان کے ساتھ ایک چوبیس رکنی ٹیم بھی شام پہنچی ہے۔ یورپی عوام کے اس امدادی کاروان کا مقصد غزہ کے عوام کی حمایت اور محاصرے کو توڑنا ہے۔ رواں سال کے مارچ کے مہینے میں ایشیائی کاروان غزہ تو نہیں جاسکا تاہم لبنان کی سرحد پر ملت فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں ضرور کامیاب ہوا۔اس ایشیائی کاروان کی ایران آمد کے موقع پر صدر احمدی نژاد نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ صیہونیت نے فلسطین میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں ہیں۔ صیہونیوں نے انسانی حقوق کو پس پشت ڈال رکھا ہے اس کے باوجود عالمی استکبار ہر سال اسرائیل کی ریاست کو بچانے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا کہ صیہونی ریاست ایران کے ایک صوبے جتنی ہے لیکن اسے اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے۔ اس ریاست کی تشکیل کے لئے فرانس اور یورپ میں تحقیق کی گئی اور پھر اس کو فلسطین کی سرزمین پر مسلط کیا گیا۔ دنیا کو جاننا چاہیے کہ یہ صرف فلسطین و اسرائیل کے درمیان مسئلہ نہیں بلکہ دو نسلوں اور دو انبیاء کے ماننے والوں کے درمیان ہے۔ صدر محمود احمدی نژاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ صیہونی ریاست نے دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے ایجاد کیا گیا ہے۔ ان کے بقول استکباری طاقتوں نے انڈونیشیا کے وسائل کو تین سو سال تک تباہ و برباد کیا، لیکن ان طاقتوں کو آزادی پسند تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا کی بیداری کے باعث استعمار نے اپنا لائحہ عمل تبدیل کیا اور اسرائیل کو سرزمین فلسطین پر مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کو سرزمین فلسطین پر ہی کیوں مسلط کیا گیا، اس کے لئے ایشیاء و افریقہ میں بھی زمین تلاش کی جا سکتی تھی۔ لیکن فلسطین کی اہمیت کئی حوالوں سے اہم ہے، فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے، فلسطین دنیا کا دل اور مرکز ہے، ایک تاریخی ورثہ ہے۔ فلسطین پر قابض ہونا تمام عالم پر قبضے کے مترادف ہے۔ صدر احمدی نژاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل صرف 1027مربع کلومیٹر کی ایک ریاست نہیں ہے بلکہ یہ سرطانی غدہ پوری دنیا کے لئے خطرناک ہے۔ صہیونی جب چاہتے ہیں قتل عام اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ یہ ظالم ریاست نوآبادیاتی نظام کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ فلسطین ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسرائیل کا قیام انسانیت کی تضحیک ہے۔ جس کے خلاف تمام آزادی پسندوں کو قیام کرنا ہو گا۔ اللہ تعالٰی کے کرم سے دنیا میں بیدارہورہی ہے۔ اسرائیل کے مظالم سے صیہونیت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے اور اب دنیا ان طاغوتی طاقتوں سے شدید نفرت کرتی ہے۔ ہمیں ہوشیار و بیدار رہنا پڑے گا چونکہ استکبار جہان صہیونی ریاست کو باقی رکھنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے۔ لیکن فلسطین کا ایک انچ بھی غاصب صہیونی ریاست کے لئے غیر قانونی ہے۔ فلسطین پر فلسطینیوں کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ اللہ تعالٰی کے کرم سے یہ ممکن ہو گا۔ اگر ہم تیار اور آمادہ ہیں تو القدس کی آزادی دور نہیں ہے۔ سرزمین فلسطین پر غاصب صہیونی ریاست کے خاتمے کی راہ میں سب سی بڑی رکاؤٹ ایسے عرب اسلامی ممالک ہیں کہ جنہوں نے غاصبوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں خصوصا سعودی عرب کہ جس کو عالم عرب کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں بھی اثر رسوخ حاصل ہے اگر اپنی امریکہ نواز پالیسی کو ترک کرکے دیگر ملکوں کو بھی اس پر مجبور کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ غاصب صہیونی حکومت اگر محو نہ ہوسکے تو بھی فلسطینیوں کے مصائب میں کمی آس سکتی ہے لیکن سعودی عرب ایسا کیوں کرنے لگا، اس لئے غصب صہیونی ریاست کا دفاع، سرزمین حجاز پر آل سعود بقا کا ضامن ہے۔......./169
10 مئی 2012 - 19:30
News ID: 314428
غصب صہیونی ریاست کا دفاع، سرزمین حجاز پر آل سعود بقا کا ضامن ہے.